ماڈل ایمان سلیمان کی اوچھی حرکت پر لوگ سیخ پا

ماڈل ایمان سلیمان کی اوچھی حرکت پر لوگ سیخ پا

ہمارے معاشرے میں خواتین کو عمومی طورپر تضحیک کا نشانہ بننا پڑتا ہے اور ایسا ہی کچھ پاکستانی مردوں نے معروف ماڈل ایمان سلیمان کیساتھ کیاگیا تاہم ان مردوں کی تصویر ماڈل کیساتھ موجود کیمرہ مین نے بنالی جسے بعدازاںسوشل میڈیا پر شیئرکردیاگیا۔


واقعات کے مطابق ایمان علی صنفی امتیاز کیخلاف کھل کر بات کرتی ہیں اور حالیہ دنوں میں انہوں نے اپنے ایک دوست فوٹو گرافر نوید امجد کیساتھ مل کر ایک تجربہ کیا جس دوران ماڈل کو لاہور میں انارکلی کے علاقے میں ایک مصروف سڑک کو عبور کرنا تھا۔ ماڈل سڑک عبور کرتے ہوئے

@naveed.amjad photographs Eman Suleman as she struggles to cross a busy road in Anarkali.

A post shared by Eman (@eman_suleman) on

اس تجربے کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ خواتین کیلئے سڑک عبور کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ انہیں اس کی کاوش سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ صنف مخالف کیلئے نقطہ اعتراض ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ماڈل نے اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ پر لکھا کہ ”نوید امجد نے ان لوگوں کا فوٹو بنالیا جو میری چھاتی پر ایک نظر ڈالنا چاہتے تھے جبکہ میں جیکٹ سے اپنی چھاپی ، گردن ، چہرہ اور بال تک چھپانے کی کوشش کررہی تھی “۔

ایمان سلیمان کی یہ پوسٹ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا، کسی نے حق میں فیصلہ سنایاتو کئی ماڈل پر ہی برس پڑے۔ رائے ہارون جہانگیر نے لکھاکہ ’اگرآپ سڑک کے بیچ ہی کھڑے ہوجائیں جس سے ٹریفک میں خلل پڑے ،جبکہ پاگلوں کی طرح سڑک کی مخالف سمت میں چلنا شروع کردیں جو کہ آپ ہیں تو لوگ یقینا آپ کو گھوریں گے کہ یہ پاگل کون ہے ‘۔

قاضی نے لکھاکہ ” ٹریفک آرہی ہے ، آپ جارہی ہوتو دائیں یا بائیں مڑیں ، کچھ قدم چلیں اور اپنا سفر جاری رکھیں جہاں جارہی ہیں، بس ایک طرف ہوگئی

محمد علی نے لکھا کہ ” کس نے کہاتھا کہ اپنی چھاتی دکھانے کے لیے برہنہ حالت میں سڑک پر جائیں اورآپ کو پہلے ہی یہ توقع تھی کہ وہ اپنی توجہ ۔ ۔ ۔“

سعدیہ عدنان نے لکھا کہ’ آپ کا تو اللہ ہی مالک ہے“۔

لشاریئے نے لکھاکہ ’ آپ اور آپ کے دوست براتاثر دے رہے ہیں، تعلیمی نظام ، لڑکیوں کی تعلیم پر بات کریں، اس پر کوئی بات نہیں کرتا کیونکہ اس پر داد نہیں ملتی ۔

امریحہ حق نے لکھا کہ ”کوئی مسئلہ نہیں کہ مرد کیا کرتے ہیں، وہ ہمیشہ اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کیلئے کوئی دلیل ڈھونڈتے ہیں اور بنیادی وجہ ہے صرف ’عورت‘۔

Leave a Reply