پاکستانی لڑکی کو کمپنی کے سی ای او نے کس بات پر رضامند کر چاہا

پاکستانی لڑکی کو کمپنی کے سی ای او نے کس بات پر رضامند کر چاہا

معاشرہ کے اندر روز بروز خرابیاں مزید بڑھتی جارہی ہے اور خواتین سب سے زیادہ اس کا شکار ہو رہی ہیں ۔ خاص کر جنسی ہراسگی کا معاملہ بیہت گھمبیر ہوتا جا رہا ہے اور مجبور خواتین کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر انہیں جنسی طور ہر ہراساں کرنے کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں ۔

گرافک ڈیزائنر کی ملازمت کے لئے درخواست بھیجنے والی اس لڑکی کو براہ راست کمپنی کے سربراہ کی جانب سے ای میل آئی جس میں لکھا تھا ”ڈیئر درخواست گزار، گرافک ڈیزائنر کی پوسٹ کے لئے آپ کی درخواست ہمیں موصول ہوئی ہے۔ میرا نام سلیم غوری ہے اور میں کمپنی کا سی ای او ہوں۔ منتخب ہونے والی امیدوار کو براہ راست میرے نیچے کام کرنا ہوگا اور اسے ڈیزائننگ ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ مقرر کیا جائے گا۔ اس فارم کو پُر کرکے جلد از جلد مجھے ارسال کریں۔ سی ای او غوری ٹریڈنگ کمپنی۔“

اول تو یہ بات ہی حیران کن ہے کہ کسی درخواست گزار سے کمپنی کا سی ای وہ خود مخاطب ہو، لیکن چلیں اس بات کو نظر انداز کر بھی دیں تو درخواست گزار لڑکی کو بھیجے گئے فارم کو دیکھ کر تو یقیناً آپ اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر پائیں گے۔ اگرچہ اس فارم میں کئی اور لغویات ہیں لیکن سب سے بیہودہ بات فارم کے 11 نمبر خانے میں دیا گیا یہ سوال ہے کہ ”کیا آپ میرے ساتھ جسمانی تعلق پر رضامند ہوں گی؟“ اس سوال کے جواب میں یہ آپشن دی گئی ہے ”جی ہاں، میں اس پر تیار ہوں گی، اگر اس کے بدلے کچھ اضافی فوائد حاصل ہوں۔“

لڑکی کو اس بات پر شدید غصہ آیا اس نے پہلے اس کمپنجی کے نمائدے کو خوب سنائی اس کے بعد اس کی میل کو انٹرنیٹ پر شئیر کیا تاکہ لوگ ایسے جنسی درندوں کو جان سکے اور کوئی لڑکی غلط فہمی میں ان کی چنگل میں نہ آسکے اور سب لوگوں کو اس بات کا علم ہو سکیں کہ ایسے لوگ کس طرعح سے لڑکیوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔

Leave a Reply