قائد اعظم محمد علی جناح اور شاگرد رضوان احمد، ایسی کہانی جو آپکو شدید غم زدہ کردے گی

قائد اعظم محمد علی جناح اور شاگرد رضوان احمد، ایسی کہانی جو آپکو شدید غم زدہ کردے گی

قائد اعظم محمد علی جناح کے شاگرد اور ان پر کتاب لکھنے والے مصنف رضوان احمد صاحب کی کہانی جو بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں.

رضوان احمد صاحب کی مشہور کتاب کا نام ہے ’’قائداعظمؒ۔ ابتدائی تیس سال‘‘. یہ کتاب لگ بھگ 1976ء ہی کے آس پاس(جب قائداعظمؒ کا صد سالہ جشنِ ولادت منایا جارہا تھا) شائع کی گئی تھی جس میں زیادہ تر محترمہ شیریں جناح صاحبہ (مرحومہ) کی یاداشتیں بھی شامل ہیں۔مُصنف نے تو اپنے حصے کا کام بخوبی سر انجام دیا ہے جسکی تائید محترمہ شیریں جناح صاحبہ (مرحومہ) نے بھی کی ہے۔

سید عمران کی تحریر پڑھیں:

رضوان احمد صاحب گلشن اقبال میں ہمارے گھر سے تھوڑے فاصلے پر رہتے تھے،اکثر سلام دعا ہوجاتی تھی، ایک مرتبہ دوپہر کے کھانے پر گھر بلایا، فرشی نشست پر چھوٹے پائے والی میز پر کھانا چنا گیا، گھر میں بہت سادگی اور سکون تھا، ان کی اہلیہ سرسید احمد خان کی پڑپوتی یا پڑ نواسی تھیں، انہیں دُکھ تھا کہ ایک مخصوص طبقہ جب سر سید احمد کی برائی کرتا ہے تو اہلیہ پر کئی روز تک اثر رہتا ہے، قائد اعظم کے بارے میں مختلف کتابیں لکھنے کے علاوہ جنگ اخبار میں ان پر کالم بھی لکھتے تھے، رضوان احمد صاحب قائد اعظم کے اس درجہ عاشق تھے کہ دعا مانگتے تھے کہ میرا انتقال بھی گیارہ ستمبر کو ہو۔۔۔اور ایسا ہی ہوگیا!

رضوان احمد صاحب قائد اعظم کے بارے میں کیا فرماتے تھے؟

اپنے طالب علمی کے زمانے کا ایک واقعہ سنایا، جب ان کی قائد اعظم سے پہلی اور آخری ملاقات ہوئی تھی۔ طالب عملوں کو لگن سے علم حاصل کرنے کی تلقین اور قیام پاکستان کی جد و جہد کے لیے ان کے جذبات کو مہمیز دینا اور اب تک کی گئی کاوشوں کو سراہنا، مصافحے کے وقت قائد اعظم کے ہاتھوں کی مضبوط گرفت اور ان کی سحر انگیز چمکدار آنکھوں کا ذکر، جن کے سحر سے رضوان صاحب مرتے دم تک نہ نکل سکے!

Leave a Reply