ہیر کے مزار میں ایک چھپا راز

ہیر کے مزار میں ایک چھپا راز

ہیر رانجھا کی کہانی ایک ایسی کہانی ہے جو کہ مدتوں سے دھرائی جا رہی ہے اور جس کے گیت آج بھی مقبول ہے اور لوگ اب بھی لہک لہک کر اسے پڑتے ہیں لیکن اس بارے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ ہیر رانجھا کوئی حقیقی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ وارث شاہ کے دماغ کا فطور تھا جس نے یہ کہانی لکھی ۔
کہا جاتا ہے کہ وارث شاہ خود ایک لڑکیکا عاشق تھا جس کا نام بھاگ بھری تھا ۔ اس کے ساتھ یاری کرنے کی وجہ سے برادری نے اسے نکالا اور اس کے ساتھ لڑکی نے بھی کوئی جواب نہیں دیا جس کی وجہ سے اس نے سفر اختیار کیا اور ہیر کے گاؤںپہنچا اور وہاں ہیر کی شہرت سن کر اس نے یہ کہانی لکھی ؎


پنجاب کے شہر جھنگ کے لوگ انہیں افراد میں شامل ہیں جو ان کرداروں کو حقیقت مانتے ہیں۔صرف یہی نہیں اس شہر کے لوگ ہیر کو عقیدت سے ‘مائی ہیر’ کہتے ہیں اور اس کے مزار پر جاکر دعائیں بھی مانگتے ہیں۔اس مزار سے کئی روایات منسوب ہیں۔ اس کی عمارت انتہائی عجیب ہے۔ اگر آپ دیکھیں تو قبر کے عین اوپر تقریباً 12 فٹ قطر کا ایک سوراخ موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بارش ہونے کے باوجود اس سوراخ سے بارش کا پانی مزار کے اندر نہیں آتا۔اس کو مائی ہیر کی کرامت

مانا جاتا ہے۔ مجاوروں کے مطابق بزرگوں کے مزارات کی چھتوں میں اس طرح کے سوراخ رکھے جاتے ہیں۔ تاہم اس پر بھی مختلف آراء سننے کو ملی ہیں۔کسی کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے یہاں قبر میں ہیر اور رانجھا دونوں دفن ہے اس کی ہوا کے لئے یہ نکالا گیا ۔لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس زمانے میں کوئی بھی ایسا

 

سراخ نہیں بناتا تھا ۔ لیکن اس کے پیچھے کیا وجہ ہے اس کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا

Leave a Reply