میں نے اسلام کیوں قبول کیا؟ یوسف یوحنا سے محمد یوسف تک، ضرور جانیں

میں نے اسلام کیوں قبول کیا؟ یوسف یوحنا سے محمد یوسف تک، ضرور جانیں


میں نے اسلام کیوں قبول کیا؟ یوسف یوحنا سے محمد یوسف تک

ہماری رہائش ریلوے کالونی گڑھی شاہو لاہور میں تھی۔ یہاں میرے ہم مذہبوں کے بھی گھر تھے لیکن زیادہ آبادی مسلمانوں کی تھی۔ اتفاق کی بات کہیے کہ میرا زیادہ اٹھنا بیٹھنا ملنا جلنا اور کھیلنا کودنا بھی مسلمان لڑکوں کے ساتھ ہی تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ وہ بھی مجھے اپنے جیسے ہی لگتے تھے۔مسلمانوں کے ہاں مجھے کوئی ایسی خاص خوبی یا امتیازی بات نظر نہیں آتی تھی کہ میرے دل میں مسلمان ہونے کا شوق پیدا ہوتا‘ مسلمان لڑکوں کے مشغلے بھی میرے جیسے ہی تھے۔ایف سی کالج میں پڑھائی کے

دوران میری دوستی ایک ہم جماعت لڑکے جاوید انور سے قائم ہوئی وہ کرکٹ کے سپرسٹار اور ہمارے سینئر ساتھی سعید انور کا چھوٹا بھائی ہے۔میں نے زندگی بھر اس جیسا لڑکا نہیں دیکھا۔ میں اسے ملنے سعید بھائی کے گھر جاتا رہتا تھا۔سعید بھائی تو 1989ء سے قومی ٹیم میں تھے‘ میں کوئی نوسال بعد 1998ء میں ٹیم میں آیا۔وہاں اکثر ایک سابق کرکٹر ذوالقرنین حیدر آ جاتے تھےجو تبلیغی جماعت میں شامل ہوگئے تھے۔ وہ نیکی اور نماز روزے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ لیکن اس وقت سعید بھائی کو ایسی باتوں کی لگن نہ تھی۔اکثر جب ذوالقرنین حیدر یا تبلیغ والے دوسرے لوگ آتے تو سعید بھائی مجھے باہر بھیج دیتے کہ کہہ آؤ کہ سعید گھر پر نہیں ہے۔پھر میں نے دیکھا کہ آہستہ آہستہ ان کی طبیعت مذہب کی طرف آنے لگی۔ تبلیغی جماعت کے بزرگوں سے بھی ان کا میل جول بڑھ گیا۔ اپنی بیٹی کی وفات کے بعد وہ مکمل طورپر مذہبی رنگ میں رنگ گئے۔اکثر تبلیغی دوروں پر رہنے لگے۔ وہ مجھے کہتے تھے ’’یوسف ہرروز سونے سے پہلے یہ دعا مانگا کرو۔‘‘ اے خدا!مجھے حق اور سچ کا راستہ دکھا۔۔۔سعید بھائی نے مجھے ان دنوں کبھی یہ نہ کہا کہ مسلمان ہوجاؤ ہمیشہ اس دعا کی تلقین کرتے رہے۔میں سعید بھائی کی نصیحت کے مطابق ہمیشہ سونے سے پہلے یہ دعا مانگتا رہا۔ میں نے سعید بھائی میں آنے والی تبدیلیوں کو بڑے غور سے دیکھا اور بہت متاثر ہوا۔پھر ایک عجیب بات ہوئی۔ میرا ایک دوست ہے وقار احمد‘ بڑی پرانی دوستی ہے ہماری ‘یہ تین سال پہلے کی بات ہے میں حسب معمول رات کو یہ دعا مانگ کر سوگیا

کہ ’’اے خدا مجھے حق اور سچ کا راستہ دکھا‘‘۔۔۔رات میں نے خواب میں اپنے دوست وقار کو دیکھا وہ خوشی خوشی میرے پاس آیا اور کہنے لگا’’سنا ہے تم مسلمان ہوگئے ہو‘‘ میں نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔آنکھ کھلنے پر میں یہ سوچتا رہا کہ کیا واقعی اللہ نے مجھے حق اور سچ کا راستہ دکھا دیا ہے۔وقار شیخوپورہ کا رہنے والا ہے۔ اتفاق دیکھئے کہ انہی دنوں پی آئی اے اور نیشنل بینک کے درمیان میچ کیلئے شیخوپورہ کرکٹ گراؤنڈ تجویز ہوا۔ میں پی آئی اے کی طرف سے کھیل رہا تھا۔شیخوپورہ پہنچا

تو میرا وہی دوست وقار احمد مجھ سے ملنے آگیا۔ وہی خواب والی وضع قطع ‘میں اس وقت حیران رہ گیا جب اس نے بالکل اسی انداز سے مجھ سے پوچھا ’’سنا ہے تم مسلمان ہوگئے ہو؟‘‘میں اس کا منہ دیکھنے لگا۔یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے یقینہوگیا کہ اللہ نے مجھے اشارہ دے دیا ہے کہ حق کا راستہ کیا ہے۔شام کو میں شیخوپورہ سے لاہور آیا تو سیدھا کیولری گراؤنڈ سعید بھائی کے پاس چلا گیا یہ اکتوبر 20022ء کا ذکر ہے۔میں نے سعید بھائی سے کہا ’’میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں‘‘ سعید بھائی نے مجھے گلے سے لگا لیا

مجھے کلمہ پڑھایا اور میری دنیا بدل گئی۔

شئیر ضرور کریں

Leave a Reply